EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کرتے ہیں شوق دید میں باتیں ہوا سے ہم
جاتے ہیں کوئے یار میں پہلے صبا سے ہم

حاتم علی مہر




خوبروئی پہ ہے کیا ناز بتان لندن
ہیں فقط روئی کے گالوں کی طرح گال سفید

حاتم علی مہر




کدھر کا چاند ہوا مہرؔ کے جو گھر آئے
تم آج بھول پڑے کس طرف کدھر آئے

حاتم علی مہر




کس پر نہیں رہی ہے عنایت حضور کی
صاحب نہیں مجھی پہ تمہارا کرم فقط

حاتم علی مہر




کوچہ میں جو اس شوخ حسیں کے نہ رہیں گے
تو دیر و حرم کیا ہے کہیں گے نہ رہیں گے

حاتم علی مہر




کوئے قاتل میں بسے گی نئی دنیا اک اور
روز ہوتا ہے نیا شہر خموشاں آباد

حاتم علی مہر




کیا بتوں میں ہے خدا جانے بقول استاد
نہ کمر رکھتے ہیں کافر نہ دہن رکھتے ہیں

حاتم علی مہر