EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اے صبا میں بھی تھا آشفتہ سروں میں یکتا
پوچھنا دلی کی گلیوں سے مرا نام کبھی

حسن نعیم




ایک دریا پار کر کے آ گیا ہوں اس کے پاس
ایک صحرا کے سوا اب درمیاں کوئی نہیں

حسن نعیم




غم سے بکھرا نہ پائمال ہوا
میں تو غم سے ہی بے مثال ہوا

حسن نعیم




گرد شہرت کو بھی دامن سے لپٹنے نہ دیا
کوئی احسان زمانے کا اٹھایا ہی نہیں

حسن نعیم




اقبالؔ کی نوا سے مشرف ہے گو نعیمؔ
اردو کے سر پہ میرؔ کی غزلوں کا تاج ہے

حسن نعیم




اتنا رویا ہوں غم دوست ذرا سا ہنس کر
مسکراتے ہوئے لمحات سے جی ڈرتا ہے

حسن نعیم




جہاں دکھائی نہ دیتا تھا ایک ٹیلہ بھی
وہاں سے لوگ اٹھا کر پہاڑ لائے ہیں

حسن نعیم