EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جو بھی کہنا ہے کہو صاف شکایت ہی سہی
ان اشارات و کنایات سے جی ڈرتا ہے

حسن نعیم




جو میرے دشت جنوں میں تھا فرق روئے بہار
وہی خرد کے خرابے میں اک گلاب بنا

حسن نعیم




جرأت کہاں کہ اپنا پتہ تک بتا سکوں
جیتا ہوں اپنے ملک میں اوروں کے نام سے

حسن نعیم




کم نہیں اے دل بے تاب متاع امید
دست مے خوار میں خالی ہی سہی جام تو ہے

حسن نعیم




خیر سے دل کو تری یاد سے کچھ کام تو ہے
وصل کی شب نہ سہی ہجر کا ہنگام تو ہے

حسن نعیم




خلوت امید میں روشن ہے اب تک وہ چراغ
جس سے اٹھتا ہے قریب شام یادوں کا دھواں

حسن نعیم




کسی نے ڈوبتی صبحوں تڑپتی شاموں کو
غزل کے جام میں شب کا خمار بھیجا ہے

حسن نعیم