جو بھی کہنا ہے کہو صاف شکایت ہی سہی
ان اشارات و کنایات سے جی ڈرتا ہے
حسن نعیم
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جو میرے دشت جنوں میں تھا فرق روئے بہار
وہی خرد کے خرابے میں اک گلاب بنا
حسن نعیم
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جرأت کہاں کہ اپنا پتہ تک بتا سکوں
جیتا ہوں اپنے ملک میں اوروں کے نام سے
حسن نعیم
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کم نہیں اے دل بے تاب متاع امید
دست مے خوار میں خالی ہی سہی جام تو ہے
حسن نعیم
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
خیر سے دل کو تری یاد سے کچھ کام تو ہے
وصل کی شب نہ سہی ہجر کا ہنگام تو ہے
حسن نعیم
خلوت امید میں روشن ہے اب تک وہ چراغ
جس سے اٹھتا ہے قریب شام یادوں کا دھواں
حسن نعیم
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کسی نے ڈوبتی صبحوں تڑپتی شاموں کو
غزل کے جام میں شب کا خمار بھیجا ہے
حسن نعیم
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

