EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کس کے چہرے سے اٹھ گیا پردہ
جھلملائے چراغ محفل کے

حسن بریلوی




کیا کہوں کیا ہے میرے دل کی خوشی
تم چلے جاؤ گے خفا ہو کر

حسن بریلوی




او وصل میں منہ چھپانے والے
یہ بھی کوئی وقت ہے حیا کا

حسن بریلوی




پوچھتے جاتے ہیں یہ ہم سب سے
مجلس وعظ میں شراب بھی ہے

حسن بریلوی




شیشہ اٹھا کر طاق سے ہم نے
طاق پہ رکھ دی ساقی توبہ

حسن بریلوی




الفت ہو کسی کی نہ محبت ہو کسی کی
پہلو میں نہ دل ہو نہ یہ حالت ہو کسی کی

حسن بریلوی




ابھی وہ خود کو ہی دیکھے جاتا ہے آئنے میں
ابھی کسی سے اسے محبت نہیں ہوئی ہے

حسن جمیل