EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

حسن جمیلؔ ترا گھر اگر زمین پہ ہے
تو پھر یہ کس لئے گم آسمان میں تو ہے

حسن جمیل




کتنی بے رنگ تھی دنیا مرے خوابوں کی جمیلؔ
اس کو دیکھا ہے تو آنکھوں میں اجالا ہوا ہے

حسن جمیل




معلوم ہوا کیسے خزاں آتی ہے گل پر
سیکھا ہے بکھرنا ترے انکار سے میں نے

حسن جمیل




یہ روشنی یونہی آغوش میں نہیں آتی
چراغ بن کے منڈیروں پہ جلنا پڑتا ہے

حسن جمیل




زندگی بھر در و دیوار سجائے جائیں
تب کہیں جا کے مکینوں پہ مکاں کھلتے ہیں

حسن جمیل




ہم کو اس کی کیا خبر گلشن کا گلشن جل گیا
ہم تو اپنا صرف اپنا آشیاں دیکھا کیے

حسن نجمی سکندرپوری




مانگو سمندروں سے نہ ساحل کی بھیک تم
ہاں فکر و فن کے واسطے گہرائی مانگ لو

حسن نجمی سکندرپوری