EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

موسم کا ظلم سہتے ہیں کس خامشی کے ساتھ
تم پتھروں سے طرز شکیبائی مانگ لو

حسن نجمی سکندرپوری




شہر کی بھیڑ میں شامل ہے اکیلا پن بھی
آج ہر ذہن ہے تنہائی کا مارا دیکھو

حسن نجمی سکندرپوری




اب آئنہ بھی مزاجوں کی بات کرتا ہے
بکھر گئے ہیں وہ چہرے جو عکس بنتے رہے

حسن ناصر




درخت کٹ گیا لیکن وہ رابطے ناصرؔ
تمام رات پرندے زمیں پہ بیٹھے رہے

حسن ناصر




کیا خبر کب لوٹ آئیں اجنبی دیسوں سے وہ
پیڑ پر محفوظ ان کے گھونسلے رکھ چھوڑنا

حسن ناصر




وہ چاند جو اترا ہے کسی اور کے گھر میں
مجھ کو تو اندھیروں سے رہائی نہیں دے گا

حسن ناصر




آ بسے کتنے نئے لوگ مکان جاں میں
بام و در پر ہے مگر نام اسی کا لکھا

حسن نعیم