EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کوئی موسم ہو یہی سوچ کے جی لیتے ہیں
اک نہ اک روز شجر غم کا ہرا تو ہوگا

حسن نعیم




کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدس خواب تھے
ہر زمانے میں شہادت کے یہی اسباب تھے

حسن نعیم




کیا فراق و فیض سے لینا تھا مجھ کو اے نعیمؔ
میرے آگے فکر و فن کے کچھ نئے آداب تھے

حسن نعیم




میں اپنی روح میں اس کو بسا چکا اتنا
اب اس کا حسن بھی پردہ دکھائی دیتا ہے

حسن نعیم




میں ایک باب تھا افسانۂ وفا کا مگر
تمہاری بزم سے اٹھا تو اک کتاب بنا

حسن نعیم




موجۂ اشک سے بھیگی نہ کبھی نوک قلم
وہ انا تھی کہ کبھی درد نہ جی کا لکھا

حسن نعیم




پاؤں سے لگ کے کھڑی ہے یہ غریب الوطنی
اس کو سمجھاؤ کہ ہم اپنے وطن آئے ہیں

حسن نعیم