کوئی موسم ہو یہی سوچ کے جی لیتے ہیں
اک نہ اک روز شجر غم کا ہرا تو ہوگا
حسن نعیم
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدس خواب تھے
ہر زمانے میں شہادت کے یہی اسباب تھے
حسن نعیم
کیا فراق و فیض سے لینا تھا مجھ کو اے نعیمؔ
میرے آگے فکر و فن کے کچھ نئے آداب تھے
حسن نعیم
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
میں اپنی روح میں اس کو بسا چکا اتنا
اب اس کا حسن بھی پردہ دکھائی دیتا ہے
حسن نعیم
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
میں ایک باب تھا افسانۂ وفا کا مگر
تمہاری بزم سے اٹھا تو اک کتاب بنا
حسن نعیم
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
موجۂ اشک سے بھیگی نہ کبھی نوک قلم
وہ انا تھی کہ کبھی درد نہ جی کا لکھا
حسن نعیم
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
پاؤں سے لگ کے کھڑی ہے یہ غریب الوطنی
اس کو سمجھاؤ کہ ہم اپنے وطن آئے ہیں
حسن نعیم
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

