EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اک پرندے کی طرح اڑ گیا کچھ دیر ہوئی
عکس اس شخص کا تالاب میں آیا ہوا تھا

حسن عباسی




کبھی جو آنکھوں کے آ گیا آفتاب آگے
ترے تصور میں ہم نے کر لی کتاب آگے

حسن عباسی




خفا ہو مجھ سے تو اپنے اندر
وہ بارشوں کو اتارتی ہے

حسن عباسی




محبت میں کٹھن رستے بہت آسان لگتے تھے
پہاڑوں پر سہولت سے چڑھا کرتے تھے ہم دونوں

حسن عباسی




مجھ کو معلوم تھا اک روز چلا جائے گا!
وہ مری عمر کو یادوں کے حوالے کر کے

حسن عباسی




نسبتیں تھیں ریت سے کچھ اس قدر
بادلوں کے شہر میں پیاسا رہا

حسن عباسی




اس اجنبی سے ہاتھ ملانے کے واسطے
محفل میں سب سے ہاتھ ملانا پڑا مجھے

حسن عباسی