EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ایک دیا کب روک سکا ہے رات کو آنے سے
لیکن دل کچھ سنبھلا تو اک دیا جلانے سے

حسن اکبر کمال




گئے دنوں میں رونا بھی تو کتنا سچا تھا
دل ہلکا ہو جاتا تھا جب اشک بہانے سے

حسن اکبر کمال




کل یہی بچے سمندر کو مقابل پائیں گے
آج تیراتے ہیں جو کاغذ کی ننھی کشتیاں

حسن اکبر کمال




کیا ترجمانیٔ غم دنیا کریں کہ جب
فن میں خود اپنا غم بھی سمویا نہ جا سکا

حسن اکبر کمال




نہ ٹوٹے اور کچھ دن تجھ سے رشتہ اس طرح میرا
مجھے برباد کر دے تو مگر آہستہ آہستہ

حسن اکبر کمال




پایا جب سے زخم کسی کو کھونے کا
سیکھا فن ہم نے بے آنسو رونے کا

حسن اکبر کمال




وفا پرچھائیں کی اندھی پرستش
محبت نام ہے محرومیوں کا

حسن اکبر کمال