EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

آنکھوں سے خواب دل سے تمنا تمام شد
تم کیا گئے کہ شوق نظارہ تمام شد

حسن عباس رضا




دھڑکتی قربتوں کے خواب سے جاگے تو جانا
ذرا سے وصل نے کتنا اکیلا کر دیا ہے

حسن عباس رضا




ہماری جیب میں خوابوں کی ریز گاری ہے
سو لین دین ہمارا دکاں سے باہر ہے

حسن عباس رضا




ہمیشہ اک مسافت گھومتی رہتی ہے پاؤں میں
سفر کے بعد بھی کچھ لوگ گھر پہنچا نہیں کرتے

حسن عباس رضا




ارادہ تھا کہ اب کے رنگ دنیا دیکھنا ہے
خبر کیا تھی کہ اپنا ہی تماشا دیکھنا ہے

حسن عباس رضا




جدائی کی رتوں میں صورتیں دھندلانے لگتی ہیں
سو ایسے موسموں میں آئنہ دیکھا نہیں کرتے

حسن عباس رضا




کس کو تھی خبر اس میں تڑخ جائے گا دل بھی
ہم خوش تھے بہت صحن میں دیوار اٹھا کر

حسن عباس رضا