EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وہ بعد مدت ملا تو رونے کی آرزو میں
نکل کے آنکھوں سے گر پڑے چند خواب آگے

حسن عباسی




اے خدا انسان کی تقسیم در تقسیم دیکھ
پارساؤں دیوتاؤں قاتلوں کے درمیاں

حسن عابدی




اشکوں میں پرو کے اس کی یادیں
پانی پہ کتاب لکھ رہا ہوں

حسن عابدی




دل کی دہلیز پہ جب شام کا سایہ اترا
افق درد سے سینے میں اجالا اترا

حسن عابدی




دنیا کہاں تھی پاس وراثت کے ضمن میں
اک دین تھا سو اس پہ لٹائے ہوئے تو ہیں

حسن عابدی




کچھ نہ کچھ تو ہوتا ہے اک ترے نہ ہونے سے
ورنہ ایسی باتوں پر کون ہاتھ ملتا ہے

حسن عابدی




سب امیدیں مرے آشوب تمنا تک تھیں
بستیاں ہو گئیں غرقاب تو دریا اترا

حسن عابدی