EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کیا شخص تھا اڑاتا رہا عمر بھر مجھے
لیکن ہوا سے ہاتھ ملانے نہیں دیا

حسن عباس رضا




میں پھر اک خط ترے آنگن گرانا چاہتا ہوں
مجھے پھر سے ترا رنگ بریدہ دیکھنا ہے

حسن عباس رضا




میں ترک تعلق پہ بھی آمادہ ہوں لیکن
تو بھی تو مرا قرض غم ہجر ادا کر

حسن عباس رضا




مکیں یہیں کا ہے لیکن مکاں سے باہر ہے
ابھی وہ شخص مری داستاں سے باہر ہے

حسن عباس رضا




محبتیں تو فقط انتہائیں مانگتی ہیں
محبتوں میں بھلا اعتدال کیا کرنا

حسن عباس رضا




سوال یہ نہیں مجھ سے ہے کیوں گریزاں وہ
سوال یہ ہے کہ کیوں جسم و جاں سے باہر ہے

حسن عباس رضا




شام وداع تھی مگر اس رنگ باز نے
پاؤں پہ ہونٹ رکھ دیے جانے نہیں دیا

حسن عباس رضا