EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سوا تیرے ہر اک شے کو ہٹا دینا ہے منظر سے
اور اس کے بعد خود کو بے سر و سامان کرنا ہے

حسن عباس رضا




تعلق توڑنے میں پہل مشکل مرحلہ تھا
چلو ہم نے تمہارا بوجھ ہلکا کر دیا ہے

حسن عباس رضا




تجھ سے بچھڑ کے سمت سفر بھولنے لگے
پھر یوں ہوا ہم اپنا ہی گھر بھولنے لگے

حسن عباس رضا




اس کا فراق اتنا بڑا سانحہ نہ تھا
لیکن یہ دکھ پہاڑ برابر لگا ہمیں

حسن عباس رضا




یہ کار عشق تو بچوں کا کھیل ٹھہرا ہے
سو کار عشق میں کوئی کمال کیا کرنا

حسن عباس رضا




آج تیری یاد سے ٹکرا کے ٹکڑے ہو گیا
وہ جو صدیوں سے لڑھکتا ایک پتھر مجھ میں تھا

حسن عباسی




حسین یادوں کے چاند کو الوداع کہہ کر
میں اپنے گھر کے اندھیرے کمروں میں لوٹ آیا

حسن عباسی