EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

محفل میں پھول خوشیوں کے جو بانٹتا رہا
تنہائی میں ملا تو بہت ہی اداس تھا

حنیف ترین




پانی نے جسے دھوپ کی مٹی سے بنایا
وہ دائرہ ربط بگڑنے کے لیے تھا

حنیف ترین




ریت پر جلتے ہوئے دیکھ سرابوں کے چراغ
اپنے بکھراؤ میں وہ اور سنور جاتا ہے

حنیف ترین




رشتے ناطے ٹوٹے پھوٹے لگے ہیں
جب بھی اپنا سایہ ساتھ نہیں ہوتا

حنیف ترین




غم کی تکمیل کا سامان ہوا ہے پیدا
لائق فخر مری بے سر و سامانی ہے

ہینسن ریحانی




ہر ذرہ ہے جمال کی دنیا لیے ہوئے
انساں اگر ہو دیدۂ بینا لیے ہوئے

ہینسن ریحانی




توڑ کر نکلے قفس تو گم تھی راہ آشیاں
وہ عمل تدبیر کا تھا یہ عمل تقدیر کا

ہینسن ریحانی