محفل میں پھول خوشیوں کے جو بانٹتا رہا
تنہائی میں ملا تو بہت ہی اداس تھا
حنیف ترین
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
پانی نے جسے دھوپ کی مٹی سے بنایا
وہ دائرہ ربط بگڑنے کے لیے تھا
حنیف ترین
ریت پر جلتے ہوئے دیکھ سرابوں کے چراغ
اپنے بکھراؤ میں وہ اور سنور جاتا ہے
حنیف ترین
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
رشتے ناطے ٹوٹے پھوٹے لگے ہیں
جب بھی اپنا سایہ ساتھ نہیں ہوتا
حنیف ترین
ٹیگز:
| سایا |
| 2 لائنیں شیری |
غم کی تکمیل کا سامان ہوا ہے پیدا
لائق فخر مری بے سر و سامانی ہے
ہینسن ریحانی
ٹیگز:
| غام |
| 2 لائنیں شیری |
ہر ذرہ ہے جمال کی دنیا لیے ہوئے
انساں اگر ہو دیدۂ بینا لیے ہوئے
ہینسن ریحانی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
توڑ کر نکلے قفس تو گم تھی راہ آشیاں
وہ عمل تدبیر کا تھا یہ عمل تقدیر کا
ہینسن ریحانی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

