وہ اک جگہ نہ کہیں رہ سکا اور اس کے ساتھ
کرایہ دار تھے ہم بھی مکاں بدلتے رہے
حنیف نجمی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
انقلاب صبح کی کچھ کم نہیں یہ بھی دلیل
پتھروں کو دے رہے ہیں آئنے کھل کر جواب
حنیف ساجد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
پتھروں سے کب تلک باندھے گی امید وفا
زندگی دیکھے گی کب تک جاگتی آنکھوں سے خواب
حنیف ساجد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
توڑ ڈالیں ہم نظام خستگی
یہ جہاں کہنہ دوبارا بنے
حنیف فوق
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بستی کے حساس دلوں کو چبھتا ہے
سناٹا جب ساری رات نہیں ہوتا
حنیف ترین
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہر زخم کہنہ وقت کے مرہم نے بھر دیا
وہ درد بھی مٹا جو خوشی کی اساس تھا
حنیف ترین
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جن کا یقین راہ سکوں کی اساس ہے
وہ بھی گمان دشت میں مجھ کو پھنسے لگے
حنیف ترین
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

