EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وہ اک جگہ نہ کہیں رہ سکا اور اس کے ساتھ
کرایہ دار تھے ہم بھی مکاں بدلتے رہے

حنیف نجمی




انقلاب صبح کی کچھ کم نہیں یہ بھی دلیل
پتھروں کو دے رہے ہیں آئنے کھل کر جواب

حنیف ساجد




پتھروں سے کب تلک باندھے گی امید وفا
زندگی دیکھے گی کب تک جاگتی آنکھوں سے خواب

حنیف ساجد




توڑ ڈالیں ہم نظام خستگی
یہ جہاں کہنہ دوبارا بنے

حنیف فوق




بستی کے حساس دلوں کو چبھتا ہے
سناٹا جب ساری رات نہیں ہوتا

حنیف ترین




ہر زخم کہنہ وقت کے مرہم نے بھر دیا
وہ درد بھی مٹا جو خوشی کی اساس تھا

حنیف ترین




جن کا یقین راہ سکوں کی اساس ہے
وہ بھی گمان دشت میں مجھ کو پھنسے لگے

حنیف ترین