EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کیا جانیں ان کی چال میں اعجاز ہے کہ سحر
وہ بھی انہیں سے مل گئے جو تھے ہمارے لوگ

حقیر




کیوں نہ کعبہ کو کہوں اللہ کا اور بت کا گھر
وہ بھی میرے دل میں ہے اور یہ بھی میرے دل میں ہے

حقیر




مجھے اب موت بہتر زندگی سے
وہ کی تم نے ستم گاری کہ توبہ

حقیر




ساقیا ایسا پلا دے مے کا مجھ کو جام تلخ
زندگی دشوار ہو اور ہو مجھے آرام تلخ

حقیر




تھوڑی تکلیف سہی آنے میں
دو گھڑی بیٹھ کے اٹھ جائیے گا

حقیر




ٹوٹیں وہ سر جس میں تیری زلف کا سودا نہیں
پھوٹیں وہ آنکھیں کہ جن کو دید کا لپکا نہیں

حقیر




یا اس سے جواب خط لانا یا قاصد اتنا کہہ دینا
بچنے کا نہیں بیمار ترا ارشاد اگر کچھ بھی نہ ہوا

حقیر