تمہاری آنکھوں کی گردشوں میں بڑی مروت ہے ہم نے مانا
مگر نہ اتنی تسلیاں دو کہ دم نکل جائے آدمی کا
حنیف اخگر
وہ کم سنی میں بھی اخگرؔ حسین تھا لیکن
اب اس کے حسن کا عالم عجیب عالم ہے
حنیف اخگر
یاد فروغ دست حنائی نہ پوچھیے
ہر زخم دل کو رشک نمک داں بنا دیا
حنیف اخگر
یہ سانحہ بھی بڑا عجب ہے کہ اپنے ایوان رنگ و بو میں
ہیں جمع سب مہر و ماہ و انجم پتا نہیں پھر بھی روشنی کا
حنیف اخگر
انا انا کے مقابل ہے راہ کیسے کھلے
تعلقات میں حائل ہے بات کی دیوار
حنیف کیفی
اپنے کاندھوں پہ لیے پھرتا ہوں اپنی ہی صلیب
خود مری موت کا ماتم ہے مرے جینے میں
حنیف کیفی
اپنی جانب نہیں اب لوٹنا ممکن میرا
ڈھل گیا ہوں میں سراپا ترے آئینے میں
حنیف کیفی

