EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

حقارت کی نگاہوں سے نہ فرش خاک کو دیکھو
امیروں کا فقیروں کا یہی آخر کو بستر ہے

حقیر




عشق کے پھندے سے بچئے اے حقیرؔ خستہ دل
اس کا ہے آغاز شیریں اور ہے انجام تلخ

حقیر




جانتا اس کو ہوں دوا کی طرح
چاہتا اس کو ہوں شفا کی طرح

حقیر




جب سے کچھ قابو ہے اپنا کاکل خم دار پر
سانپ ہر دم لوٹتا ہے سینۂ اغیار پر

حقیر




کھلی جو آنکھ مری سامنا قضا سے ہوا
جو آنکھ بند ہوئی سابقہ خدا سے ہوا

حقیر




خوب مل کر گلے سے رو لینا
اس سے دل کی صفائی ہوتی ہے

حقیر




کی کسی پر نہ جفا میرے بعد
خوب روئے وہ سنا میرے بعد

حقیر