EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کوئی بھی رت ہو ملی ہے دکھوں کی فصل ہمیں
جو موسم آیا ہے اس کے عتاب دیکھے ہیں

حنیف کیفی




ملے وہ لمحہ جسے اپنا کہہ سکیں کیفیؔ
گزر رہے ہیں اسی جستجو میں ماہ و سال

حنیف کیفی




مدتیں گزریں ملاقات ہوئی تھی تم سے
پھر کوئی اور نہ آیا نظر آئینے میں

حنیف کیفی




سب نظر آتے ہیں چہرے گرد گرد
کیا ہوئے بے آب آئینے تمام

حنیف کیفی




شب دراز کا ہے قصہ مختصر کیفیؔ
ہوئی سحر کے اجالوں میں گم چراغ کی لو

حنیف کیفی




تمام عالم سے موڑ کر منہ میں اپنے اندر سما گیا ہوں
مجھے نہ آواز دے زمانہ میں اپنی آواز سن رہا ہوں

حنیف کیفی




اگر جہاں میں کوئی آئنا نہیں تیرا
تو پھر تجھی کو ترے رو بہ رو کروں گا میں

حنیف نجمی