کوئی بھی رت ہو ملی ہے دکھوں کی فصل ہمیں
جو موسم آیا ہے اس کے عتاب دیکھے ہیں
حنیف کیفی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ملے وہ لمحہ جسے اپنا کہہ سکیں کیفیؔ
گزر رہے ہیں اسی جستجو میں ماہ و سال
حنیف کیفی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
مدتیں گزریں ملاقات ہوئی تھی تم سے
پھر کوئی اور نہ آیا نظر آئینے میں
حنیف کیفی
سب نظر آتے ہیں چہرے گرد گرد
کیا ہوئے بے آب آئینے تمام
حنیف کیفی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
شب دراز کا ہے قصہ مختصر کیفیؔ
ہوئی سحر کے اجالوں میں گم چراغ کی لو
حنیف کیفی
ٹیگز:
| حج |
| 2 لائنیں شیری |
تمام عالم سے موڑ کر منہ میں اپنے اندر سما گیا ہوں
مجھے نہ آواز دے زمانہ میں اپنی آواز سن رہا ہوں
حنیف کیفی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اگر جہاں میں کوئی آئنا نہیں تیرا
تو پھر تجھی کو ترے رو بہ رو کروں گا میں
حنیف نجمی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

