EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کشتۂ ضبط فغاں نغمۂ بے ساز و صدا
اف وہ آنسو جو لہو بن کے ٹپکتا ہوگا

حنیف اخگر




لوگ ملنے کو چلے آتے ہیں دیوانے سے
شہر کا ایک تعلق تو ہے ویرانے سے

حنیف اخگر




نگاہیں پھیرنے والے یہ نظریں اٹھ ہی جاتی ہیں
کبھی بیگانگی وجہ شناسائی بھی ہوتی ہے

حنیف اخگر




پل بھر نہ بجلیوں کے مقابل ٹھہر سکے
اتنا بھی کم سواد مرا آشیاں کہاں

حنیف اخگر




پوچھتی رہتی ہے جو قیصر و کسریٰ کا مزاج
شان یہ خاک نشینوں میں کہاں سے آئی

حنیف اخگر




شامل ہوئے ہیں بزم میں مثل چراغ ہم
اب صبح تک جلیں گے لگاتار دیکھنا

حنیف اخگر




شدید تند ہوائیں ہیں کیا کیا جائے
سکوت غم کی صدائیں ہیں کیا کیا جائے

حنیف اخگر