جو ہے تازگی مری ذات میں وہی ذکر و فکر چمن میں ہے
کہ وجود میرا کہیں بھی ہو مری روح میرے وطن میں ہے
حنیف اخگر
جو کشود کار طلسم ہے وہ فقط ہمارا ہی اسم ہے
وہ گرہ کسی سے کھلے گی کیا جو تری جبیں کی شکن میں ہے
حنیف اخگر
جو مسافر بھی ترے کوچے سے گزرا ہوگا
اپنی نظروں کو بھی دیوار سمجھتا ہوگا
حنیف اخگر
کافر سہی ہزار مگر اس کو کیا کہیں
ہم پر وہ مہرباں ہے مسلمان کی طرح
حنیف اخگر
خلوت جاں میں ترا درد بسانا چاہے
دل سمندر میں بھی دیوار اٹھانا چاہے
حنیف اخگر
کسی کے جور مسلسل کا فیض ہے اخگرؔ
وگرنہ درد ہمارے سخن میں کتنا تھا
حنیف اخگر
کوئی ساغر پہ ساغر پی رہا ہے کوئی تشنہ ہے
مرتب اس طرح آئین مے خانہ نہیں ہوتا
حنیف اخگر

