EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ستارہ ہے کوئی گل ہے کہ دل ہے
تری ٹھوکر میں پتھر مختلف ہے

حمیدہ شاہین




ترے گیتوں کا مطلب اور ہے کچھ
ہمارا دھن سراسر مختلف ہے

حمیدہ شاہین




آنکھ بینائی گنوا بیٹھی تو
تیری تصویر سے منظر نکلا

حماد نیازی




آخری بار میں کب اس سے ملا یاد نہیں
بس یہی یاد ہے اک شام بہت بھاری تھی

حماد نیازی




بس ایک لمحہ ترے وصل کا میسر ہو
اور اس وصال کے لمحے کو دائمی کیا جائے

حماد نیازی




بھروا دینا مرے کاسے کو
مرے کاسے کو بھروا دینا

حماد نیازی




دکھائی دینے لگی تھی خوشبو
میں پھول آنکھوں پہ مل رہا تھا

حماد نیازی