EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

پیڑ اجڑتے جاتے ہیں
شاخوں کی نادانی سے

حماد نیازی




پوچھتا پھرتا ہوں گلیوں میں کوئی ہے کوئی ہے
یہ وہ گلیاں ہیں جہاں لوگ تھے سرشاری تھی

حماد نیازی




روز میں اس کو جیت جاتا تھا
اور وہ روز خود کو ہارتی تھی

حماد نیازی




صبح سویرے ننگے پاؤں گھاس پہ چلنا ایسا ہے
جیسے باپ کا پہلا بوسہ قربت جیسے ماؤں کی

حماد نیازی




سن قطار اندر قطار اشجار کی سرگوشیاں
اور کہانی پڑھ خزاں نے رات جو تحریر کی

حماد نیازی




عمر کی اولیں اذانوں میں
چین تھا دل کے کار خانوں میں

حماد نیازی




وہ پیڑ جس کی چھاؤں میں کٹی تھی عمر گاؤں میں
میں چوم چوم تھک گیا مگر یہ دل بھرا نہیں

حماد نیازی