دل کے سونے صحن میں گونجی آہٹ کس کے پاؤں کی
دھوپ بھرے سناٹے میں آواز سنی ہے چھاؤں کی
حماد نیازی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہار دیا ہے عجلت میں
خود کو کس آسانی سے
حماد نیازی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہم ایسے لوگ جو آئندہ و گزشتہ ہیں
ہمارے عہد کو موجود سے تہی کیا جائے
حماد نیازی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہم اس خاطر تری تصویر کا حصہ نہیں تھے
ترے منظر میں آ جائے نہ ویرانی ہماری
حماد نیازی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کب مجھے اس نے اختیار دیا
کب مجھے خود پہ اختیار آیا
حماد نیازی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کچی قبروں پر سجی خوشبو کی بکھری لاش پر
خامشی نے اک نئے انداز میں تقریر کی
حماد نیازی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
میں اپنے باپ کے سینے سے پھول چنتا ہوں
سو جب بھی سانس تھمی باغ میں ٹہل آیا
حماد نیازی
ٹیگز:
| والد |
| 2 لائنیں شیری |

