EN हिंदी
محابب شیاری | شیح شیری

محابب

406 شیر

یوں تری یاد میں دن رات مگن رہتا ہوں
دل دھڑکنا ترے قدموں کی صدا لگتا ہے

شہزاد احمد




عشق کی راہ میں میں مست کی طرح
کچھ نہیں دیکھتا بلند اور پست

شیخ ظہور الدین حاتم




عشق اس کا آن کر یک بارگی سب لے گیا
جان سے آرام سر سے ہوش اور چشموں سے خواب

شیخ ظہور الدین حاتم




عشق بازی بو الہوس بازی نہ جان
عشق ہے یہ خانۂ خالہ نہیں

شیخ ظہور الدین حاتم




صبر بن اور کچھ نہ لو ہم راہ
کوچۂ عشق تنگ ہے یارو

شیخ ظہور الدین حاتم




تمہارے عشق میں ہم ننگ و نام بھول گئے
جہاں میں کام تھے جتنے تمام بھول گئے

شیخ ظہور الدین حاتم




جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے
زخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے

شکیب جلالی