EN हिंदी
محابب شیاری | شیح شیری

محابب

406 شیر

عشق وہ کار مسلسل ہے کہ ہم اپنے لیے
ایک لمحہ بھی پس انداز نہیں کر سکتے

رئیس فروغ




اوس سے پیاس کہاں بجھتی ہے
موسلا دھار برس میری جان

راجیندر منچندا بانی




عجب چیز ہے یہ محبت کی بازی
جو ہارے وہ جیتے جو جیتے وہ ہارے

رضا ہمدانی




شام ڈھلے یہ سوچ کے بیٹھے ہم اپنی تصویر کے پاس
ساری غزلیں بیٹھی ہوں گی اپنے اپنے میر کے پاس

ساغرؔ اعظمی




تم کیا جانو اپنے آپ سے کتنا میں شرمندہ ہوں
چھوٹ گیا ہے ساتھ تمہارا اور ابھی تک زندہ ہوں

ساغرؔ اعظمی




تم سے ملتی جلتی میں آواز کہاں سے لاؤں گا
تاج محل بن جائے اگر ممتاز کہاں سے لاؤں گا

ساغرؔ اعظمی




کیوں میری طرح راتوں کو رہتا ہے پریشاں
اے چاند بتا کس سے تری آنکھ لڑی ہے

ساحر لکھنوی