EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

عمر بھر ملنے نہیں دیتی ہیں اب تو رنجشیں
وقت ہم سے روٹھ جانے کی ادا تک لے گیا

فصیح اکمل




آنکھوں میں نہ زلفوں میں نہ رخسار میں دیکھیں
مجھ کو مری دانش مرے افکار میں دیکھیں

فاطمہ حسن




ادھورے لفظ تھے آواز غیر واضح تھی
دعا کو پھر بھی نہیں دیر کچھ اثر میں لگی

فاطمہ حسن




اور کوئی نہیں ہے اس کے سوا
سکھ دیے دکھ دیے اسی نے دیے

فاطمہ حسن




بہت گہری ہے اس کی خامشی بھی
میں اپنے قد کو چھوٹا پا رہی ہوں

فاطمہ حسن




بھول گئی ہوں کس سے میرا ناطہ تھا
اور یہ ناطہ کیسے ٹوٹا بھول گئی

فاطمہ حسن




بچھڑ رہا تھا مگر مڑ کے دیکھتا بھی رہا
میں مسکراتی رہی میں نے بھی کمال کیا

فاطمہ حسن