EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہماری فتح کے انداز دنیا سے نرالے ہیں
کہ پرچم کی جگہ نیزے پہ اپنا سر نکلتا ہے

فصیح اکمل




ہمیں پہ ختم ہیں جور و ستم زمانے کے
ہمارے بعد اسے کس کی آرزو ہوگی

فصیح اکمل




ہر ایک آنکھ میں آنسو ہر ایک لب پہ فغاں
یہ ایک شور قیامت سا کوبکو کیا ہے

فصیح اکمل




جنہیں تاریخ بھی لکھتے ڈرے گی
وہ ہنگامے یہاں ہونے لگے ہیں

فصیح اکمل




کتابوں سے نہ دانش کی فراوانی سے آیا ہے
سلیقہ زندگی کا دل کی نادانی سے آیا ہے

فصیح اکمل




مدعا اظہار سے کھلتا نہیں ہے
یہ زبان بے زبانی اور ہے

فصیح اکمل




ستاروں کی طرح الفاظ کی ضو بڑھتی جاتی ہے
غزل میں حسن اس چہرے کی تابانی سے آیا ہے

فصیح اکمل