ہماری فتح کے انداز دنیا سے نرالے ہیں
کہ پرچم کی جگہ نیزے پہ اپنا سر نکلتا ہے
فصیح اکمل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہمیں پہ ختم ہیں جور و ستم زمانے کے
ہمارے بعد اسے کس کی آرزو ہوگی
فصیح اکمل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہر ایک آنکھ میں آنسو ہر ایک لب پہ فغاں
یہ ایک شور قیامت سا کوبکو کیا ہے
فصیح اکمل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جنہیں تاریخ بھی لکھتے ڈرے گی
وہ ہنگامے یہاں ہونے لگے ہیں
فصیح اکمل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کتابوں سے نہ دانش کی فراوانی سے آیا ہے
سلیقہ زندگی کا دل کی نادانی سے آیا ہے
فصیح اکمل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
مدعا اظہار سے کھلتا نہیں ہے
یہ زبان بے زبانی اور ہے
فصیح اکمل
ٹیگز:
| اظہار |
| 2 لائنیں شیری |
ستاروں کی طرح الفاظ کی ضو بڑھتی جاتی ہے
غزل میں حسن اس چہرے کی تابانی سے آیا ہے
فصیح اکمل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

