EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ترے خلاف کیا جب بھی احتجاج اے دوست
مرا وجود بھی شامل نہیں ہوا مرے ساتھ

فرتاش سید




تو سمجھتا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں تیرے بغیر
میں ترے پیار سے انکار بھی کر سکتا ہوں

فرتاش سید




ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا
میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا

فریاد آزر




ایسی خوشیاں تو کتابوں میں ملیں گی شاید
ختم اب گھر کا تصور ہے مکاں باقی ہے

فریاد آزر




بند ہو جاتا ہے کوزے میں کبھی دریا بھی
اور کبھی قطرہ سمندر میں بدل جاتا ہے

فریاد آزر




ہم ابتدا ہی میں پہنچے تھے انتہا کو کبھی
اب انتہا میں بھی ہیں ابتدا سے لپٹے ہوئے

فریاد آزر




اس تماشے کا سبب ورنہ کہاں باقی ہے
اب بھی کچھ لوگ ہیں زندہ کہ جہاں باقی ہے

فریاد آزر