ترے خلاف کیا جب بھی احتجاج اے دوست
مرا وجود بھی شامل نہیں ہوا مرے ساتھ
فرتاش سید
تو سمجھتا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں تیرے بغیر
میں ترے پیار سے انکار بھی کر سکتا ہوں
فرتاش سید
ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا
میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا
فریاد آزر
ایسی خوشیاں تو کتابوں میں ملیں گی شاید
ختم اب گھر کا تصور ہے مکاں باقی ہے
فریاد آزر
بند ہو جاتا ہے کوزے میں کبھی دریا بھی
اور کبھی قطرہ سمندر میں بدل جاتا ہے
فریاد آزر
ہم ابتدا ہی میں پہنچے تھے انتہا کو کبھی
اب انتہا میں بھی ہیں ابتدا سے لپٹے ہوئے
فریاد آزر
اس تماشے کا سبب ورنہ کہاں باقی ہے
اب بھی کچھ لوگ ہیں زندہ کہ جہاں باقی ہے
فریاد آزر

