EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سن رہے ہیں کان جو کہتے ہیں سب
لوگ لیکن سوچتے کچھ اور ہیں

فاطمہ حسن




سنتی رہی میں سب کے دکھ خاموشی سے
کس کا دکھ تھا میرے جیسا بھول گئی

فاطمہ حسن




ٹھیس کچھ ایسی لگی ہے کہ بکھرنا ہے اسے
دل میں دھڑکن کی جگہ درد ہے اور جان نہیں

فاطمہ حسن




الجھ کے رہ گئے چہرے مری نگاہوں میں
کچھ اتنی تیزی سے بدلے تھے ان کی بات کے رنگ

فاطمہ حسن




اس کے پیالے میں زہر ہے کہ شراب
کیسے معلوم ہو بغیر پیے

فاطمہ حسن




بے کیف کٹ رہی تھی مسلسل یہ زندگی
پھر خواب میں وہ خواب سا پیکر ملا مجھے

فواد احمد




دل و نظر کی بقا ہے فقط محبت میں
دل و نظر سے کوئی اور کام مت لینا

فواد احمد