EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میں نے ماں کا لباس جب پہنا
مجھ کو تتلی نے اپنے رنگ دیے

فاطمہ حسن




میں نے پہنچایا اسے جیت کے ہر خانے میں
میری بازی تھی مری مات سمجھتا ہی نہیں

فاطمہ حسن




مکاں بناتے ہوئے چھت بہت ضروری ہے
بچا کے صحن میں لیکن شجر بھی رکھنا ہے

فاطمہ حسن




پہچان جن سے تھی وہ حوالے مٹا دیے
اس نے کتاب ذات کا صفحہ بدل دیا

فاطمہ حسن




پوری نہ ادھوری ہوں نہ کم تر ہوں نہ برتر
انسان ہوں انسان کے معیار میں دیکھیں

فاطمہ حسن




رات دریچے تک آ کر رک جاتی ہے
بند آنکھوں میں اس کا چہرہ رہتا ہے

فاطمہ حسن




سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا
وگرنہ تھک کے کہیں تو ٹھہر ہی جانا تھا

فاطمہ حسن