EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے
اب تک رکا ہوا ہوں وہیں رات روک کے

فرحت احساس




علاج اپنا کراتے پھر رہے ہو جانے کس کس سے
محبت کر کے دیکھو نا محبت کیوں نہیں کرتے

فرحت احساس




عشق میں پینے کا پانی بس آنکھ کا پانی
کھانے میں بس پتھر کھائے جا سکتے تھے

فرحت احساس




جان یہ سرکشئ جسم ترے بس کی نہیں
میری آغوش میں آ لا یہ مصیبت مجھے دے

فرحت احساس




جب اس کو دیکھتے رہنے سے تھکنے لگتا ہوں
تو اپنے خواب کی پلکیں جھپکنے لگتا ہوں

فرحت احساس




جسے بھی پیاس بجھانی ہو میرے پاس رہے
کبھی بھی اپنے لبوں سے چھلکنے لگتا ہوں

فرحت احساس




جسم کا کوزہ ہے اپنا اور نہ یہ دریائے جاں
جو لگا لے گا لبوں سے اس میں بھر جائیں گے ہم

فرحت احساس