اک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے
اب تک رکا ہوا ہوں وہیں رات روک کے
فرحت احساس
علاج اپنا کراتے پھر رہے ہو جانے کس کس سے
محبت کر کے دیکھو نا محبت کیوں نہیں کرتے
فرحت احساس
عشق میں پینے کا پانی بس آنکھ کا پانی
کھانے میں بس پتھر کھائے جا سکتے تھے
فرحت احساس
جان یہ سرکشئ جسم ترے بس کی نہیں
میری آغوش میں آ لا یہ مصیبت مجھے دے
فرحت احساس
جب اس کو دیکھتے رہنے سے تھکنے لگتا ہوں
تو اپنے خواب کی پلکیں جھپکنے لگتا ہوں
فرحت احساس
جسے بھی پیاس بجھانی ہو میرے پاس رہے
کبھی بھی اپنے لبوں سے چھلکنے لگتا ہوں
فرحت احساس
جسم کا کوزہ ہے اپنا اور نہ یہ دریائے جاں
جو لگا لے گا لبوں سے اس میں بھر جائیں گے ہم
فرحت احساس

