جو عشق چاہتا ہے وہ ہونا نہیں ہے آج
خود کو بحال کرنا ہے کھونا نہیں ہے آج
فرحت احساس
کبھی اس روشنی کی قید سے باہر بھی نکلو تم
ہجوم حسن نے سارا سراپا گھیر رکھا ہے
فرحت احساس
کون سی ایسی خوشی ہے جو ملی ہو ایک بار
اور تا عمر ہمیں جس نے اذیت نہیں دی
فرحت احساس
کس کی ہے یہ تصویر جو بنتی نہیں مجھ سے
میں کس کا تقاضا ہوں کہ پورا نہیں ہوتا
فرحت احساس
کسی حالت میں بھی تنہا نہیں ہونے دیتی
ہے یہی ایک خرابی مری تنہائی کی
فرحت احساس
کیا بدن ہے کہ ٹھہرتا ہی نہیں آنکھوں میں
بس یہی دیکھتا رہتا ہوں کہ اب کیا ہوگا
فرحت احساس
لوگ یوں جاتے نظر آتے ہیں مقتل کی طرف
مسئلے جیسے روانہ ہوں کسی حل کی طرف
فرحت احساس

