EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جو عشق چاہتا ہے وہ ہونا نہیں ہے آج
خود کو بحال کرنا ہے کھونا نہیں ہے آج

فرحت احساس




کبھی اس روشنی کی قید سے باہر بھی نکلو تم
ہجوم حسن نے سارا سراپا گھیر رکھا ہے

فرحت احساس




کون سی ایسی خوشی ہے جو ملی ہو ایک بار
اور تا عمر ہمیں جس نے اذیت نہیں دی

فرحت احساس




کس کی ہے یہ تصویر جو بنتی نہیں مجھ سے
میں کس کا تقاضا ہوں کہ پورا نہیں ہوتا

فرحت احساس




کسی حالت میں بھی تنہا نہیں ہونے دیتی
ہے یہی ایک خرابی مری تنہائی کی

فرحت احساس




کیا بدن ہے کہ ٹھہرتا ہی نہیں آنکھوں میں
بس یہی دیکھتا رہتا ہوں کہ اب کیا ہوگا

فرحت احساس




لوگ یوں جاتے نظر آتے ہیں مقتل کی طرف
مسئلے جیسے روانہ ہوں کسی حل کی طرف

فرحت احساس