EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میں بھی یہاں ہوں اس کی شہادت میں کس کو لاؤں
مشکل یہ ہے کہ آپ ہوں اپنی نظیر میں

فرحت احساس




میں بچھڑوں کو ملانے جا رہا ہوں
چلو دیوار ڈھانے جا رہا ہوں

فرحت احساس




میں جب کبھی اس سے پوچھتا ہوں کہ یار مرہم کہاں ہے میرا
تو وقت کہتا ہے مسکرا کر جناب تیار ہو رہا ہے

فرحت احساس




میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں
پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں

فرحت احساس




میرے ہر مصرعے پہ اس نے وصل کا مصرعہ لگایا
سب ادھورے شعر شب بھر میں مکمل ہو گئے تھے

فرحت احساس




میری اک عمر اور اک عہد کی تاریخ رقم ہے جس پر
کیسے روکوں کہ وہ آنسو مری آنکھوں سے گرا جاتا ہے

فرحت احساس




مرے سارے بدن پر دوریوں کی خاک بکھری ہے
تمہارے ساتھ مل کر خود کو دھونا چاہتا ہوں میں

فرحت احساس