میں بھی یہاں ہوں اس کی شہادت میں کس کو لاؤں
مشکل یہ ہے کہ آپ ہوں اپنی نظیر میں
فرحت احساس
میں بچھڑوں کو ملانے جا رہا ہوں
چلو دیوار ڈھانے جا رہا ہوں
فرحت احساس
میں جب کبھی اس سے پوچھتا ہوں کہ یار مرہم کہاں ہے میرا
تو وقت کہتا ہے مسکرا کر جناب تیار ہو رہا ہے
فرحت احساس
میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں
پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں
فرحت احساس
میرے ہر مصرعے پہ اس نے وصل کا مصرعہ لگایا
سب ادھورے شعر شب بھر میں مکمل ہو گئے تھے
فرحت احساس
میری اک عمر اور اک عہد کی تاریخ رقم ہے جس پر
کیسے روکوں کہ وہ آنسو مری آنکھوں سے گرا جاتا ہے
فرحت احساس
مرے سارے بدن پر دوریوں کی خاک بکھری ہے
تمہارے ساتھ مل کر خود کو دھونا چاہتا ہوں میں
فرحت احساس

