نہ جانے کیسا سمندر ہے عشق کا جس میں
کسی کو دیکھا نہیں ڈوب کے ابھرتے ہوئے
فراغ روہوی
ٹیگز:
| اشق |
| 2 لائنیں شیری |
نفرت کے سنسار میں کھیلیں اب یہ کھیل
اک اک انساں جوڑ کے بن جائیں ہم ریل
فراغ روہوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سنا ہے امن پرستوں کا وہ علاقہ ہے
وہیں شکار کبوتر ہوا تو کیسے ہوا
فراغ روہوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تمہارا چہرہ تمہیں ہو بہ ہو دکھاؤں گا
میں آئنہ ہوں، مرا اعتبار تم بھی کرو
فراغ روہوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اسی طرف ہے زمانہ بھی آج محو سفر
فراغؔ میں نے جدھر سے گزرنا چاہا تھا
فراغ روہوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
یارو حدود غم سے گزرنے لگا ہوں میں
مجھ کو سمیٹ لو کہ بکھرنے لگا ہوں میں
فراغ روہوی
ٹیگز:
| غام |
| 2 لائنیں شیری |
ذرا سی بات پہ کیا کیا نہ کھو دیا میں نے
جو تم نے کھویا ہے اس کا شمار تم بھی کرو
فراغ روہوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

