EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دھوپ کی سختی تو تھی لیکن فرازؔ
زندگی میں پھر بھی تھا سایہ بہت

فراز سلطانپوری




فرازؔ اس طرح زندگی ہے گزاری
کہ گویا کوئی حادثہ چھوڑ آئے

فراز سلطانپوری




کہیں ایسا نہ ہو میں دور خود اپنے سے ہو جاؤں
میری ہستی کے ہنگاموں میں کچھ تنہائیاں رکھ دو

فراز سلطانپوری




پھولوں کی تازگی میں اداسی ہے شام کی
سائے غموں کے اتنے تو گہرے کبھی نہ تھے

فراز سلطانپوری




یہ دل ہے دل اسے سینے میں ہرگز
کبھی رکھنا نہ تم پتھر بنا کے

فراز سلطانپوری




گفتگو کسی سے ہو تیرا دھیان رہتا ہے
ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے سلسلہ تکلم کا

فرید جاوید




ہمیں بھی اپنی تباہی پہ رنج ہوتا ہے
ہمارے حال پریشاں پہ مسکراؤ نہیں

فرید جاوید