زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں
ہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں
فانی بدایونی
بھول گئے ہر واقعہ بس اتنا ہے یاد
مال و زر پر تھی کھڑی رشتوں کی بنیاد
فراغ روہوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دماغ اہل محبت کا ساتھ دیتا نہیں
اسے کہو کہ وہ دل کے کہے میں آ جائے
فراغ روہوی
ٹیگز:
| دل |
| 2 لائنیں شیری |
ہم سے تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا جاتا
دشت وحشت میں بھی آداب لیے پھرتے ہیں
فراغ روہوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہمارے تن پہ کوئی قیمتی قبا نہ سہی
غزل کو اپنی مگر خوش لباس رکھتے ہیں
فراغ روہوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اک دن وہ میرے عیب گنانے لگا فراغؔ
جب خود ہی تھک گیا تو مجھے سوچنا پڑا
فراغ روہوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کیسے اپنے پیار کے سپنے ہوں ساکار
تیرے میرے بیچ ہے مذہب کی دیوار
فراغ روہوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

