EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

بڑی مشکلوں سے کاٹا بڑے کرب سے گزارا
ترے بعد کوئی لمحہ جو ملا کبھی خوشی کا

احسان دربھنگوی




نظر آتی ہے ساری کائنات میکدہ روشن
یہ کس کے ساغر رنگیں سے پھوٹی ہے کرن ساقی

احسان دربھنگوی




شاید ابھی باقی ہے کچھ آگ محبت کی
ماضی کی چتاؤں سے اٹھتا ہے دھواں احساںؔ

احسان دربھنگوی




شوق کے ممکنات کو دونوں ہی آزما چکے
تم بھی فریب کھا چکے ہم بھی فریب کھا چکے

احسان دربھنگوی




تم اس طرف سے گزر چکی ہو مگر گلی گنگنا رہی ہے
تمہاری پازیب کا وہ نغمہ فضا میں اب تک کھنک رہا ہے

احسان دربھنگوی




یاد آئی جب مجھے فرحتؔ سے چھوٹی تھی بہن
میرے دشمن کی بہن نے مجھ کو راکھی باندھ دی

احسان ثاقب




اہل دنیا سے مجھے تو کوئی اندیشہ نہ تھا
نام تیرا کس لئے مرے لبوں پر جم گیا

احترام اسلام