EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

بیٹھتا ہے ہمیشہ رندوں میں
کہیں زاہد ولی نہ ہو جائے

بیخود بدایونی




دیر و حرم کو دیکھ لیا خاک بھی نہیں
بس اے تلاش یار نہ در در پھرا مجھے

بیخود بدایونی




گردش بخت سے بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں
مری دل بستگیاں زلف گرہ گیر کے ساتھ

بیخود بدایونی




حاصل اس مہ لقا کی دید نہیں
عید ہے اور ہم کو عید نہیں

بیخود بدایونی




کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیا
ہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیا

بیخود بدایونی




خون ہو جائیں خاک میں مل جائیں
حضرت دل سے کچھ بعید نہیں

بیخود بدایونی




نہ مدارات ہماری نہ عدو سے نفرت
نہ وفا ہی تمہیں آئی نہ جفا ہی آئی

بیخود بدایونی