فرشتے دیکھ رہے ہیں زمین و چرخ کا ربط
یہ فاصلہ بھی تو انساں کی ایک جست لگے
بیکل اتساہی
فرش تا عرش کوئی نام و نشاں مل نہ سکا
میں جسے ڈھونڈھ رہا تھا مرے اندر نکلا
بیکل اتساہی
ہم بھٹکتے رہے اندھیرے میں
روشنی کب ہوئی نہیں معلوم
بیکل اتساہی
ہر ایک لحظہ مری دھڑکنوں میں چبھتی تھی
عجیب چیز مرے دل کے آس پاس رہی
بیکل اتساہی
ہوائے عشق نے بھی گل کھلائے ہیں کیا کیا
جو میرا حال تھا وہ تیرا حال ہونے لگا
بیکل اتساہی
عشق وشق یہ چاہت واہت من کا بھلاوا پھر من بھی اپنا کیا
یار یہ کیسا رشتہ جو اپنوں کو غیر کرے مولیٰ خیر کرے
بیکل اتساہی
خدا کرے مرا منصف سزا سنانے پر
مرا ہی سر مرے قاتل کے روبرو رکھ دے
بیکل اتساہی

