EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

الجھ رہے ہیں بہت لوگ میری شہرت سے
کسی کو یوں تو کوئی مجھ سے اختلاف نہ تھا

بیکل اتساہی




اس کا جواب ایک ہی لمحے میں ختم تھا
پھر بھی مرے سوال کا حق دیر تک رہا

بیکل اتساہی




وہ میرے قتل کا ملزم ہے لوگ کہتے ہیں
وہ چھٹ سکے تو مجھے بھی گواہ لکھ لیجے

بیکل اتساہی




وہ تھے جواب کے ساحل پہ منتظر لیکن
سمے کی ناؤ میں میرا سوال ڈوب گیا

بیکل اتساہی




یوں تو کئی کتابیں پڑھیں ذہن میں مگر
محفوظ ایک سادہ ورق دیر تک رہا

بیکل اتساہی




زمین پیاسی ہے بوڑھا گگن بھی بھوکا ہے
میں اپنے عہد کے قصے تمام لکھتا ہوں

بیکل اتساہی




آنسو مری آنکھوں میں ہیں نالے مرے لب پر
سودا مرے سر میں ہے تمنا مرے دل میں

بیخود بدایونی