EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کواڑ بند کرو تیرہ بختو سو جاؤ
گلی میں یوں ہی اجالوں کی آہٹیں ہوں گی

بیکل اتساہی




لوگ تو جا کے سمندر کو جلا آئے ہیں
میں جسے پھونک کر آیا وہ مرا گھر نکلا

بیکل اتساہی




نہ جانے کون سا نشہ ہے ان پہ چھایا ہوا
قدم کہیں پہ ہیں پڑتے کہیں پہ چلتے ہیں

بیکل اتساہی




نشتر چاہے پھول سے برف سے مانگے خون
دھوپ کھلائے چاند کو اندھے کا قانون

بیکل اتساہی




پیسے کی بوچھار میں لوگ رہے ہمدرد
بیت گئی برسات جب موسم ہو گیا سرد

بیکل اتساہی




ٹرین چلی تو چل پڑے کھیتوں کے سب جھاڑ
بھاگ رہے ہیں ساتھ ہی جنگل اور پہاڑ

بیکل اتساہی




تم بن چاند نہ دیکھ سکا ٹوٹ گئی امید
بن درپن بن نین کے کیسے منائیں عید

بیکل اتساہی