EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

شفا کیا ہو نہیں سکتی ہمیں لیکن نہیں ہوتی
دوا کیا کر نہیں سکتے ہیں ہم لیکن نہیں کرتے

بیخود بدایونی




شکوہ سن کر جو مزاج بت بد خو بدلا
ہم نے بھی ساتھ ہی تقریر کا پہلو بدلا

بیخود بدایونی




ان کی حسرت بھی نہیں میں بھی نہیں دل بھی نہیں
اب تو بیخودؔ ہے یہ عالم مری تنہائی کا

بیخود بدایونی




واعظ و محتسب کا جمگھٹ ہے
میکدہ اب تو میکدہ نہ رہا

بیخود بدایونی




وہ جو کر رہے ہیں بجا کر رہے ہیں
یہ جو ہو رہا ہے بجا ہو رہا ہے

بیخود بدایونی




وہ ان کا وصل میں یہ کہہ کے مسکرا دینا
طلوع صبح سے پہلے ہمیں جگا دینا

بیخود بدایونی




آئنہ دیکھ کر وہ یہ سمجھے
مل گیا حسن بے مثال ہمیں

بیخود دہلوی