EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اپنے جلوے کا وہ خود آپ تماشائی ہے
آئینے اس نے لگا رکھے ہیں دیواروں میں

بیخود دہلوی




بات کرنے کی شب وصل اجازت دے دو
مجھ کو دم بھر کے لئے غیر کی قسمت دے دو

بیخود دہلوی




بات وہ کہئے کہ جس بات کے سو پہلو ہوں
کوئی پہلو تو رہے بات بدلنے کے لیے

بیخود دہلوی




بیخودؔ تو مر مٹے جو کہا اس نے ناز سے
اک شعر آ گیا ہے ہمیں آپ کا پسند

بیخود دہلوی




بیخودؔ ضرور رات کو سوئے ہو پی کے تم
یہ تو کہو نماز پڑھی یا قضا ہوئی

بیخود دہلوی




بھولے سے کہا مان بھی لیتے ہیں کسی کا
ہر بات میں تکرار کی عادت نہیں اچھی

بیخود دہلوی




بولے وہ مسکرا کے بہت التجا کے بعد
جی تو یہ چاہتا ہے تری مان جائیے

بیخود دہلوی