ہم تم میں کل دوری بھی ہو سکتی ہے
وجہ کوئی مجبوری بھی ہو سکتی ہے
بیدل حیدری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہو گیا چرخ ستم گر کا کلیجہ ٹھنڈا
مر گئے پیاس سے دریا کے کنارے بچے
بیدل حیدری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جتنا ہنگامہ زیادہ ہوگا
آدمی اتنا ہی تنہا ہوگا
بیدل حیدری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کہیں انتہا کی ملامتیں کہیں پتھروں سے اٹی چھتیں
ترے شہر میں مرے بعد اب کوئی سر پھرا نہیں آئے گا
بیدل حیدری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
خول چہروں پہ چڑھانے نہیں آتے ہم کو
گاؤں کے لوگ ہیں ہم شہر میں کم آتے ہیں
بیدل حیدری
میرے اندر کا پانچواں موسم
کس نے دیکھا ہے کس نے جانا ہے
بیدل حیدری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
رات کو روز ڈوب جاتا ہے
چاند کو تیرنا سکھانا ہے
بیدل حیدری

