EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہم تم میں کل دوری بھی ہو سکتی ہے
وجہ کوئی مجبوری بھی ہو سکتی ہے

بیدل حیدری




ہو گیا چرخ ستم گر کا کلیجہ ٹھنڈا
مر گئے پیاس سے دریا کے کنارے بچے

بیدل حیدری




جتنا ہنگامہ زیادہ ہوگا
آدمی اتنا ہی تنہا ہوگا

بیدل حیدری




کہیں انتہا کی ملامتیں کہیں پتھروں سے اٹی چھتیں
ترے شہر میں مرے بعد اب کوئی سر پھرا نہیں آئے گا

بیدل حیدری




خول چہروں پہ چڑھانے نہیں آتے ہم کو
گاؤں کے لوگ ہیں ہم شہر میں کم آتے ہیں

بیدل حیدری




میرے اندر کا پانچواں موسم
کس نے دیکھا ہے کس نے جانا ہے

بیدل حیدری




رات کو روز ڈوب جاتا ہے
چاند کو تیرنا سکھانا ہے

بیدل حیدری