EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہ تاثیر محبت ہے کہ ٹپکا
ہمارا خوں تمہاری گفتگو سے

بیان میرٹھی




اب آدمی کچھ اور ہماری نظر میں ہے
جب سے سنا ہے یار لباس بشر میں ہے

بیدم شاہ وارثی




اے جنوں کیوں لیے جاتا ہے بیاباں میں مجھے
جب تجھے آتا ہے گھر کو مرے صحرا کرنا

بیدم شاہ وارثی




اپنا تو یہ مذہب ہے کعبہ ہو کہ بت خانہ
جس جا تمہیں دیکھیں گے ہم سر کو جھکا دیں گے

بیدم شاہ وارثی




برہمن مجھ کو بنانا نہ مسلماں کرنا
میرے ساقی مجھے مست مے عرفاں کرنا

بیدم شاہ وارثی




بیدمؔ یہ محبت ہے یا کوئی مصیبت ہے
جب دیکھیے افسردہ جب دیکھیے جب مغموم

بیدم شاہ وارثی




دینے والے تجھے دینا ہے تو اتنا دے دے
کہ مجھے شکوۂ کوتاہیٔ داماں ہو جائے

بیدم شاہ وارثی