یہ دل جو مضطرب رہتا بہت ہے
کوئی اس دشت میں تڑپا بہت ہے
بیدل حیدری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کچھ بے ادبی اور شب وصل نہیں کی
ہاں یار کے رخسار پہ رخسار تو رکھا
بیگم لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہم بھی خود کو تباہ کر لیتے
تم ادھر بھی نگاہ کر لیتے
بہزاد لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
عشق کا اعجاز سجدوں میں نہاں رکھتا ہوں میں
نقش پا ہوتی ہے پیشانی جہاں رکھتا ہوں میں
بہزاد لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
میں ڈھونڈھ رہا ہوں مری وہ شمع کہاں ہے
جو بزم کی ہر چیز کو پروانہ بنا دے
بہزاد لکھنوی
ٹیگز:
| شمما |
| 2 لائنیں شیری |
مجھے تو ہوش نہ تھا ان کی بزم میں لیکن
خموشیوں نے میری ان سے کچھ کلام کیا
بہزاد لکھنوی
ٹیگز:
| کھوسشی |
| 2 لائنیں شیری |
زندہ ہوں اس طرح کہ غم زندگی نہیں
جلتا ہوا دیا ہوں مگر روشنی نہیں
بہزاد لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

