EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہ دل جو مضطرب رہتا بہت ہے
کوئی اس دشت میں تڑپا بہت ہے

بیدل حیدری




کچھ بے ادبی اور شب وصل نہیں کی
ہاں یار کے رخسار پہ رخسار تو رکھا

بیگم لکھنوی




ہم بھی خود کو تباہ کر لیتے
تم ادھر بھی نگاہ کر لیتے

بہزاد لکھنوی




عشق کا اعجاز سجدوں میں نہاں رکھتا ہوں میں
نقش پا ہوتی ہے پیشانی جہاں رکھتا ہوں میں

بہزاد لکھنوی




میں ڈھونڈھ رہا ہوں مری وہ شمع کہاں ہے
جو بزم کی ہر چیز کو پروانہ بنا دے

بہزاد لکھنوی




مجھے تو ہوش نہ تھا ان کی بزم میں لیکن
خموشیوں نے میری ان سے کچھ کلام کیا

بہزاد لکھنوی




زندہ ہوں اس طرح کہ غم زندگی نہیں
جلتا ہوا دیا ہوں مگر روشنی نہیں

بہزاد لکھنوی