EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سب نے غربت میں مجھ کو چھوڑ دیا
اک مری بے کسی نہیں جاتی

بیدم شاہ وارثی




طور مجنوں کی نگاہوں کے بتاتے ہیں ہمیں
اسی لیلیٰ میں ہے اک دوسری لیلیٰ دیکھو

بیدم شاہ وارثی




تم جو چاہو تو مرے درد کا درماں ہو جائے
ورنہ مشکل ہے کہ مشکل مری آساں ہو جائے

بیدم شاہ وارثی




وہ قلقل مینا میں چرچے مری توبہ کے
اور شیشہ و ساغر کی مے خانے میں سرگوشی

بیدم شاہ وارثی




وہ لے گیا ہے مری آنکھ اپنی بستی میں
کہ میرے ساتھ رہے رابطہ بحال اس کا

بیدار سرمدی




بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے

بیدل حیدری




گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے
سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا

بیدل حیدری