ہماری زندگی تو مختصر سی اک کہانی تھی
بھلا ہو موت کا جس نے بنا رکھا ہے افسانہ
بیدم شاہ وارثی
جس کی اس عالم صورت میں ہے رنگ آمیزی
اسی تصویر کا خاکہ تو یہ انسان بھی ہے
بیدم شاہ وارثی
جو سنتا ہوں سنتا ہوں میں اپنی خموشی سے
جو کہتی ہے کہتی ہے مجھ سے مری خاموشی
بیدم شاہ وارثی
کہاں ایمان کس کا کفر اور دیر و حرم کیسے
ترے ہوتے ہوئے اے جاں خیال دو جہاں کیوں ہو
بیدم شاہ وارثی
کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیں
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے
بیدم شاہ وارثی
مرے درد نہاں کا حال محتاج بیاں کیوں ہو
جو لفظوں کا ہو مجموعہ وہ میری داستاں کیوں ہو
بیدم شاہ وارثی
مرے ناشاد رہنے سے اگر تجھ کو مسرت ہے
تو میں ناشاد ہی اچھا مجھے ناشاد رہنے دے
بیدم شاہ وارثی

