EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہماری زندگی تو مختصر سی اک کہانی تھی
بھلا ہو موت کا جس نے بنا رکھا ہے افسانہ

بیدم شاہ وارثی




جس کی اس عالم صورت میں ہے رنگ آمیزی
اسی تصویر کا خاکہ تو یہ انسان بھی ہے

بیدم شاہ وارثی




جو سنتا ہوں سنتا ہوں میں اپنی خموشی سے
جو کہتی ہے کہتی ہے مجھ سے مری خاموشی

بیدم شاہ وارثی




کہاں ایمان کس کا کفر اور دیر و حرم کیسے
ترے ہوتے ہوئے اے جاں خیال دو جہاں کیوں ہو

بیدم شاہ وارثی




کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیں
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے

بیدم شاہ وارثی




مرے درد نہاں کا حال محتاج بیاں کیوں ہو
جو لفظوں کا ہو مجموعہ وہ میری داستاں کیوں ہو

بیدم شاہ وارثی




مرے ناشاد رہنے سے اگر تجھ کو مسرت ہے
تو میں ناشاد ہی اچھا مجھے ناشاد رہنے دے

بیدم شاہ وارثی