EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

امرت رس کی بین پر زہر کے نغمے گاؤ
مرہم سے مسکان کے زخموں کو اکساؤ

بیکل اتساہی




عزم محکم ہو تو ہوتی ہیں بلائیں پسپا
کتنے طوفان پلٹ دیتا ہے ساحل تنہا

بیکل اتساہی




بدن کی آنچ سے سنولا گئے ہیں پیراہن
میں پھر بھی صبح کے چہرے پہ شام لکھتا ہوں

بیکل اتساہی




بیکلؔ جی کس فکر میں بیٹھے ہو من مار
کاغذ کی اک اوٹ ہے زنداں کی دیوار

بیکل اتساہی




بیچ سڑک اک لاش پڑی تھی اور یہ لکھا تھا
بھوک میں زہریلی روٹی بھی میٹھی لگتی ہے

بیکل اتساہی




چاندی کے گھروندوں کی جب بات چلی ہوگی
مٹی کے کھلونوں سے بہلائے گئے ہوں گے

بیکل اتساہی




دور حاضر کی بزم میں بیکلؔ
کون ہے آدمی نہیں معلوم

بیکل اتساہی